النازعات
مكية • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا
قسم ان کی کہ سختی سے جان کھینچیں ۔
وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا
اور نرمی سے بند کھولیں ۔
وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا
اور آسانی سے پیریں ۔
فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا
پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں ۔
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاﭥ
پھر کام کی تدبیر کریں کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا۔
یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ
جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی ۔
تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُﭤ
اُس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔
قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌ
کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔
اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌﭥ
آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے ۔
یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِﭤ
کافر کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے ۔
ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًﭤ
کیا جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے۔
قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌﭥ
بولے یوں تو یہ پلٹنا نرا نقصان ہے۔
فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ
تو وہ نہیں مگر ایک جِھڑکی ۔
فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِﭤ
جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے۔
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىﭥ
کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی۔
اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى
جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں ندا فرمائی۔
اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘
کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اُٹھایا۔
فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰى
اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو ۔
وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى
اور تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے۔
فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘
پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی ۔
فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘
اس پر اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔
ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘
پھر پیٹھ دی اپنی کوشش میں لگا ۔
فَحَشَرَ فَنَادٰى٘
تو لوگوں کو جمع کیا پھر پکارا۔
فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘
پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں ۔
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىﭤ
تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى ؕ ۠
بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اُسے جو ڈرے۔
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ -بَنٰىهَاﭨ
کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا۔
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا
اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا۔
وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَ جَ ضُحٰىهَا۪
اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی۔
وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا ﭤ
اور اس کے بعد زمین پھیلائی۔
اَخْرَ جَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا ۪
اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکا لا۔
وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا
اور پہاڑوں کو جمایا ۔
مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ ﭤ
تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو۔
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘
پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی ۔
یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى
اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی۔
وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى
اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی ۔
فَاَمَّا مَنْ طَغٰى
تو وہ جس نے سرکشی کی۔
وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ۔
فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىﭤ
تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔
فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىﭤ
تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے۔
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاﭤ
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے ۔
فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاﭤ
تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق۔
اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاﭤ
تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے۔
اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاﭤ
تم تو فقط اُسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے ۔
كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠
گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے ۔